20 اکتوبر 2026 - 17:07
عراق میں انصار اللہ کی سیاسی اور میڈیا سرگرمیوں پر پابندیاں عائد

یمن کی تحریک انصار اللہ کے ارکان کو عراق میں سیاسی و صحافتی سرگرمیوں، اجلاسوں اور پریس کانفرنسوں سے روک دیا گیا ہے۔ عراقی فوج کے ریٹائرڈ کرنل سعد الجغیفی نے اس اقدام کو خطے میں ایران سے ہم آہنگ گروہوں کی حمایت روکنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عربی اخبار العربی الجدید نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ عراقی حکومت نے وزیراعظم علی الزیدی کے سعودی عرب کے دورے کے بعد عراق میں یمن کی تحریک انصار اللہ کے ارکان کی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، عراق کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ انصار اللہ کے نمائندوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی صحافتی اور سیاسی سرگرمی، اجلاسوں اور پریس کانفرنسوں کے انعقاد اور رہائشی قوانین کے دائرے سے باہر کسی بھی سرگرمی سے گریز کریں۔ اس کے علاوہ، تحریک کے دفتر کے ارکان کی رہائش گاہیں متعین کر دی گئی ہیں اور ان سے بغداد سمیت دیگر صوبوں میں اپنی آمد و رفت کی تفصیلات فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔

عراقی عہدیدار نے زور دیا کہ عراق کی سرزمین سے سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف سرگرمیاں بھی ان پابندیوں میں شامل ہیں۔ ان کے مطابق، اس فیصلے کا مقصد اچھے ہمسایہ تعلقات کے اصول کی پابندی اور دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا ہے۔

یمن کی تحریک انصار اللہ کا دفتر 2018 سے بغداد کے علاقے جادریہ میں سرگرم ہے اور اس تحریک کی متعدد اہم شخصیات بھی عراق میں موجود رہی ہیں۔ انصار اللہ کے ارکان ماضی میں عراق کی بعض سیاسی شخصیات، حشد الشعبی کے کمانڈروں اور ملک کے مسلح گروہوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

یہ فیصلہ علی الزیدی کے سعودی عرب کے دورے اور اس ملک کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے تقریباً ایک ہفتے بعد کیا گیا ہے۔ عراقی وزیراعظم کے دفتر کے بیان کے مطابق، الزیدی نے اس ملاقات میں ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی عرب کی شہری تنصیبات پر حملے کی مذمت کی تھی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ بغداد عراق کی سرزمین کو سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک کی سلامتی کے خلاف استعمال کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔

عراقی فوج کے ریٹائرڈ کرنل سعد الجغیفی نے اس اقدام کو خطے میں ایران سے ہم آہنگ گروہوں کی حمایت روکنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ کے تناظر میں دیکھا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران حزب اللہ لبنان اور انصار اللہ یمن کے بعض اعلیٰ عہدیداروں کی عراق کے مالیاتی نظام تک رسائی محدود کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق، ان پابندیوں کا دائرہ بینکوں، کرنسی کے تبادلے اور رقم کی منتقلی کرنے والی کمپنیوں اور عراقی فضائی کمپنی تک پھیلا ہوا ہے۔

اس عراقی ماہر کے بقول، یہ اقدامات اس لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ عراق پر بین الاقوامی مالیاتی پابندیاں عائد ہونے اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی اثرات سے بچا جا سکے۔

عراقی حکومت نے اب تک ان پابندیوں کی تفصیلات باضابطہ طور پر جاری نہیں کی ہیں۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha